ابنا: شيعہ عالم دين آيت للہ نمر باقر نمر کي گرفتاري کے بعد سے سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے اور لوگ ہر روز سڑکوں پر آکر مظاہرے کر رہے ہيں- مشرقي علاقوں کے لوگ سعودي سيکورٹي فورس کے ہاتھوں ايک نوجوان کے قتل اور بعدا ازان کے اعضاء کاٹے جانے کے واقعے کے خلاف بھي مشتعل ہيں اور اس ميں ملوث سيکورٹي اہلکاروں کو سزا ديئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہيں- مظاہرين نے آل سعود حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور انقلابي امنگوں کے حصول تک اپني جدوجہد جاري رکھنے کا اعلان کيا-دوسري جانب آيت اللہ نمر باقر نمر کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ سعودي سيکورٹي اہلکاروں نے آيت اللہ نمر کو زخمي حالت ميں گرفتار کرنے کے بعد بھي زبردست تشدد کا نشانہ بنايا ہے-ظہران کے فوجي ہستپال ميں زير علاج آيت اللہ نمر سے ملاقات کے بعد ان کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ آيت للہ نمرکے جسم پر تشدد کے آثار پوري طرح نماياں تھے تاہم انکے حوصلے پوري طرح بلند ہيں-گذشتہ ہفتے اتوار کو سعودي سيکورٹي اہلکاروں نے شيخ باقر النمر کي گاڑي پر فائرنگ کردي جس کے نتيجے ميں ان کي گاڑي ديوار سے جاٹکرائي اور گولي ان کو بھي لگي-اس کے بعد سعودي حکومت کے کارندوں نے انہيں نامعلوم مقام پر منتقل کرديا تھا اور اب ان کا ظہران کے فوجي اسپتال ميں علاج ہورہا ہے-
.......
/169